مالیگاﺅں میں سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ اجتماع میں لاکھوں عشاق کی شرکت،رقت انگیز دعا پر اختتام - SDI MALEGAON

Latest

BANNER 728X90

Friday, 2 March 2018

مالیگاﺅں میں سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ اجتماع میں لاکھوں عشاق کی شرکت،رقت انگیز دعا پر اختتام



قرآن کے انسان کا حسن نمایاں ہو جائے تو ہر انسان قرآنی سانچے میں ڈھلنا چاہے گا::علامہ قمرالزماں خان اعظمی
فکر مصطفوی کے خاتمے کے سبب مسلمانوں پر زمین تنگ ہو گئی ہے:علامہ شاکر علی نوری
فکر رسول کی سنت کو زندہ کریں،آج مسلمانوں کے عالمی بحران کا سبب خود غرضی اور مفاد پرستی ہے :علامہ شاکر علی نوری
مفتی نظام الدین رضوی نے مالیگاﺅں اجتماع کے کھلے سیشن میںشریعت کی روشنی میںسامعین کے سوالوں کے جوابات دیے
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روگردانی ہی تباہی وبربادی کا اصل سبب:مولانا سید امین القادری
مالیگاﺅں میں سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ اجتماع میں لاکھوں عشاق کی شرکت،رقت انگیز دعا پر اختتام


    2مارچ 2018ء(عطاءالرحمن نوری):سائنسی علوم کے ماہرین،ادبا،شعرا،ارباب فکرودانش نے انسان کی مختلف تعریفیں کی ہیں،مگر سب سے عمدہ وجامع تعریف اللہ پاک نے اپنے کلام میں کی ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :”ہم نے انسان کے سر پر تاج کرامت رکھا ہے “،مزید فرمایا:”ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے “۔قرآن کے انسان کے لیے آسمان وزمین کی تمام چیزیں مسخر کر دی گئی ہیں۔قرآن کے انسان کے سامنے فرشتے سجدہ ریز ہیں۔قرآن کے انسان کو اللہ پاک نے اپنے دست قدرت سے بنایاہے،قرآن کے انسان میں اللہ نے اپنی روح (حکم)پھونکی ہے،ساری کائنات انسان کے لیے پیدا کی گئی اور انسان صرف خداکی بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ان فکر انگیز کلمات کا اظہار مفکر اسلام حضرت علامہ قمرالزماں خاں اعظمی صاحب (سربراہ اعلیٰ الجامعة الاسلامیہ،روناہی)نے 2 مارچ بروز جمعہ 2018ءکو بعد نماز عشاءمالیگاﺅں میں منعقدہ دو روزہ اجتماع کے آخری دن لاکھوں سامعین کی موجودگی میں کیا۔”قرآن کا انسان“جیسے اہم اور حساس عنوان پر خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام نے فرمایا:قرآن کے انسان کا حسن نمایاں ہو جائے تو دنیا کا ہر انسان قرآنی سانچے میں ڈھلنا چاہے گا۔اگر انسان قرآن کا انسان بن جائے تو زمان ومکان سر خمیدہ ہوجائےں گے،زمین سمٹ جائے گی اور سمندر راستہ دے گا۔قرآن کا انسان اربوں سالوں سے موجود ہے اور موجود رہے گا،زمانہ فنا ہوجائے گا مگر قرآن کا انسان ہمیشہ موجود رہے گا،ہماری ابتدا علم الٰہی ہے اور اختتام جنت ہے،ڈارون کاانسان بندر کی ترقی یافتہ شکل ہے مگر قرآن کے انسان کی تخلیق جنت میں ہوئی اور پھر زمین پر بھیجا گیا۔
    مفکر اسلام نے فرمایاکہ اللہ تعالی نے قرآن میں سیکڑوں مقامات پربراہ راست انسانوں سے خطاب کیاہے اور انہیں اپنی زندگی کے نصب العین کوکتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کاحکم دیاہے۔انسان کیا ہے ؟ہم کون ہیں؟ہم کیا چاہتے ہیں؟ اور قرآن اس کا کیا جواب دیتا ہے۔ہر باشعور انسان سب سے پہلے اپنی زندگی پر غور کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟ اور پھر موت بھی زندگی کا حصہ کیوں ہے؟ قرآن پاک نے اس سوالوں کا جواب کئی مقامات پر دیا مگرافسوس !عربی سے نا واقفیت اور قرآن سے غفلت کے سبب بہت سے افراد اب تک اسے سمجھنے سے بہت دور ہیں ۔

    علامہ اعظمی کے بعد داعی کبیر حضرت علامہ محمد شاکر نوری صاحب (امیر سنّی دعوت اسلامی)نے ”فکر امت اور ہماری ذمہ داریاں “پر انقلاب آفریں خطاب فرمایا۔آپ نے کہا کہ فکر امت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم سنت ہے ،اسی سنت پر صحابہ،تابعین ، تبع تابعین ،اولیاے کرام اور اسلاف کرام عمل کرتے رہیں،آج خود غرضی اور مفاد پرستی کا ماحول بن چکا ہے اس لیے عراق،یمن، ایتھوپیا،برما،فلسطین ،سریا،شام اور دیگر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے حالات دگر گوں ہو چکے ہیں،جب تک مسلمانوں میں امت کی فکر تھی ایک جانور بھی پیاسا نہیں مرتا تھابلکہ ایک خارش زدہ جانور کے مرنے کے خوف سے امیر المومنین لرز جاتے تھے۔آپ نے قرآن مقدس کے حوالے سے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: ”اور قریب تر ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا۔“اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ وعدہ کریمہ ان نعمتوں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دنیا میں عطا فرمائیں۔ کمالِ نفس اور علومِ اوّلین و آخرین اور ظہورِ امر اور اعلائے دِین اور وہ فتوحات جو عہدِ مبارک میں ہوئیں اور عہدِ صحابہ میں ہوئیں اور تاقیامت مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی اور دعوت کا عام ہونا اور اسلام کا مشارق و مغارب میں پھیل جانا اور آپ کی امت کا بہترین اُمم ہونا۔دیلمی مسند الفردوس میں امیر المو منین مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی ہیں جب یہ آیت اتری تو حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ مجھ کو راضی کردینے کا وعدہ فرماتا ہے، تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہا“۔
    مولاناموصوف نے قرآن واحادیث کی روشنی میں فکر اُمت کے حوالے سے انقلاب آفریں خطاب فرمایا۔مختلف احادیث کے ذریعے آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر کو اجاگر کیاجیسے :سوراخ میں پیشاب نہ کریں تاکہ کوئی موذی جانور ایذا نہ پہنچا دے، بغیرمنڈیر( بارڈر) والی چھت پر سونے سے منع کیا گیاتاکہ نیند میں نیچے نہ گر جائے،مزید فرمایامونچھوں کو پست کرو اور داڑھی کو بڑھاﺅ۔اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر مونچھ کے بال پانی میں ڈوب جائےں تو اس کے جراثیم پانی میں داخل ہو جائیں گے اور صحت کے لیے مضر ہوں گے۔ایک اور مقام پر فرمایاپانی دیکھ کر پیو تاکہ اس کے مضر اثرات سے محفوظ ہو جاﺅ، موزے اورجوتے جھاڑ کر پہنو،کہی اس میں کوئی نقصان دہ چیز ہو اور وہ نقصان نہ پہنچا دے۔کھانا کھانے کے بعد روغن کو دھو لیں،تاکہ کوئی مضر جانور اس کی مہک سونگھ کر آپ کو تکلیف نہ پہنچا دے۔مالیگاﺅں اجتماع سے پیغام دیتے ہوئے امیر سنّی دعوت اسلامی نے فرمایا کہ مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں پیدا کرے، غریبی کے خاتمے کی کوشش کریں،سرمایہ دار تعلیم کے پیچھے خرچ کریں،بیواﺅں اور یتیموں کا خیال کریں،سوسائٹی میں فلاح وبہبود کا کام کریں۔
    سواد اعظم اہلسنّت وجماعت کی عالمگیر تحریک سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام مالیگاﺅں میں جاری دو روزہ سنّی اجتماع کے دوسرے دن کا آغاز صبح دس بجے تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔نعت ومنقبت کے بعد مبلغین کے بیانات ہوئے،مولانا امتیاز رضوی (بھیونڈی)نے سجدہ سہو کے مسائل سے حاضرین کو آگاہ کیا

مولانا سید محمد قادری (جے پور)نے اصلاح معاشرہ پر پُر مغز خطاب کیا۔

عالمی شہرت یافتہ نعت خواں قاری محمد رضوان خان صاحب (ممبئی)نے اسلامی علوم وفنون اور سائنسی حقائق پر علمی وتحقیقی گفتگو پیش کی،

آپ ہی کی اقتداءمیں لاکھوں حاضرین نے نماز جمعہ ادا کی۔
 
نماز جمعہ کے بعد بلبل باغ مدینہ قاری ریاض الدین اشرفی (ممبئی)نے اپنی خوش الحان آواز میںقرآن پاک کی تلاوت کی اور نعتوں کا حسین گلدستہ پیش کیا۔
 مولانا خالد ایوب مصباحی شیرانی (ایڈیٹر ماہنامہ احساس)نے ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے گئے ظلم وستم “کے عنوان پر اثر آفریںخطاب میں فرمایا۔مفتی صاحب نے دوران خطاب فرمایا:سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بسر کرنے کا ایک بہترین اور جامع تحفہ ہے۔اسلام کے حیرت انگیز سرعت سے پھیلنے کا راز داعی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حسن اور آپ کی دعوت کے کمال میں پوشیدہ ہے۔ آپ کے غلاموں نے اس راز کو پا لیا تھا اور انہوں نے اپنی زندگیوں کو اس نمونہ ¿ کمال کے سانچے میں ڈھالنے کی پوری کوشش کی تھی اور وہ سنتوں کے عملی پیکر بن کر اکناف عالم میں پھیل گئے اوردین کو غالب کیا۔آپ کے بعد خلیفہ ¿ حضور اشرف الفقہاءحافظ محمد امین رضوی (سورت)نے اصلاح معاشرہ پر فکر انگیز خطاب کیا۔

    مولانا انصار رضا (جے پور)نے ”توبہ کی اہمیت وضرورت“پر خطاب کیا،مولانا موصوف نے اپنے ملفوظات میں فرمایا:ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو گناہ کر کے بے باکی سے زندگی گزارتے ہیں اور توبہ کی طرف مائل نہیں ہوتے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ موت کے آثار نمودار ہونے سے پہلے توبہ کر لینی چاہیے، ورنہ نزع کے عالم میں ہزار مرتبہ بھی کہےںکہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہو گی اس لیے کہ یہ توبہ اضطراری ہے اختیاری نہیں، لہٰذا گناہوں پہ مصر رہنے کی بجائے توبہ پر عجلت کریں،ہمارا مولیٰ کریم ہے وہ ضرور توبہ قبول فرمائے گا۔آپ نے مختلف احادیث واقوال اور واقعات کی روشنی میں توبہ کی افادیت کو اُجاگر کیا۔اختتام پر آپ نے کہا کہ ہم کو اپنی توبہ کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کیسی توبہ کرتے ہیں؟ اگر ہماری توبہ توبہ نصوح ہو تو اس کے لیے ہم کو سابقہ گناہوں سے اجتناب کی ضرورت ہے بلکہ کبھی بھی ان گناہوں کی طرف نہ پلٹیں تاکہ مولیٰ کے فرمان پر صحیح طور پر عمل ہو سکے۔

    بعد نماز عصر سوال وجواب کا کھلا سیشن ہوا جس میں سراج الفقہاءمفتی نظام الدین رضوی (شیخ الحدیث مبارک پور اشرفیہ)نے شریعت کی روشنی میں سامعین کے سوالوں کے تسلی بخش جوابات دیے۔

بعد نماز مغرب مالیگاﺅں کے نگراں مولانا سیدمحمد امین القادری نے ”مسلمانوں کی پسپائی کی وجوہات اور علاج“کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ آج مسلمانوں کے مصائب وآلام کی سب سے بڑی وجہ فرمان نبی سے روگردانی اختیار کرناہے،جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹیلے پر صحابہ کرام کو متعین فرمایا تھا مگر وہ سہو کے سبب نیچے اتر آئیں،یہ پہلی جنگ تھی جس میں کثیر تعداد میں مسلمان ہلا ک ہوئے۔مولانا موصوف نے اسلامی تاریخ کے حوالے سے فرمایاکہ قوموں پر اسی وقت زوال آتا ہے جب وہ قوم نبی کی سیرت اور فرامین سے دور ہو جاتی ہے۔سوشل میڈیاپر مسلم امہ پر ہونے والے ظلم و ستم کی تصاویر شیئر کرنے والے نوجوانوں کو فکر انگیزاندازمیں نصیحت کرتے ہوئے مولانا موصوف نے کہا کہ ایسی تصاویر سینڈ کرنے سے بہتر یہ ہے کہ ہم یہ محاسبہ کریں کہ آخر اس ظلم و ستم کاسبب کیاہے؟آپ نے انٹر نیٹ اور موبائل کے ذریعے کی جانے والے تنہائی کے گناہوں سے اجتناب برتنے اور فرامین خداورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گذارنے کی کی تلقین کی۔

    سنی دعوت اسلامی کی اس عظیم الشان اجتماع میں کثیر تعداد میں مفتیان کرام،علماے ذوی الاحترام،ائمہ مساجد،حفاظ کرام ،داعیان دین،مساجد ومدارس کے ذمہ داران،پروفیسرس، تعلیم یافتہ افراد،سیاسی،سماجی،معاشی اور شہر کی سرکردہ وبااثر شخصیات ،متعدد دینی و ملی اداروں کے سربراہان اور لاکھوں عشاق نے شرکت کی۔ریاست مہاراشٹر اور قریبی ریاستوں کے مختلف اضلاع ،شہروں اور چھوٹے چھوٹے دیہاتوں سے عاشقان رسول کے وفود اجتماع میں آئے اور دینی وعلمی فیضان سے مالامال ہوئے۔نماز عشاءبعد صلوٰة وسلام اور رقت انگیز دعاپر اجتماع کا اختتام ہوا۔



No comments:

Post a Comment