اللہ ورسول کے فرامین کی خلاف ورزی بے چینی اوربے قراری کی سب سے بڑی وجہ۔علامہ محمد شاکر نوری
مسکین بھائی بہنوں کوزکوٰة دے کر دوہرا ثواب حاصل کریں۔مفتی نظام الدین رضوی
خواتین اسلام والدین سے شوہر کی شکایتیں کرنے کی بجائے صبر وتحمل سے شوہر کی اطاعت کریں۔مولانا سیدامین القادری
مالیگاﺅں اجتماع کے پہلے دن عالمات ،مبلغات اور مشائخ کے خطابات،بعد نماز ظہرمحفل ختم بخاری اور بعد نماز مغرب دعاپر اختتام۔
یکم مارچ بروز جمعرات 2018ء(عطاءالرحمن نوری):قرآن مقدس میں اللہ تعالیٰ نے عفت وعصمت کی حفاظت کی تعلیم عطا فرمائی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے موقع پر عفت وعزت کی حفا ظت کی بیعت لی۔جب تک معاشرے میں عفت وعزت کی محافظت کرنے والی خواتین رہیں اس وقت تک معاشرہ پاکیزہ رہااورپوری سوسائٹی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھلی رہی ۔ماضی میں خواتین اسلام نے عفت وعزت کی حفاظت کی خاطر جان تک کا نذرانہ بھی پیش کیا ،پیغمبرانہ دعاﺅں میں بھی عفت وعزت کے تحفظ کا ذکر ہے ۔اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے :”مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔“(سورہ نور) اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے صاحب ایمان لوگوں کی بیشمار صفات میں دو بنیادی صفات کا ذکر کیا ہے، ایک نگاہوں کو نیچے رکھنا اور دوسرا شرمگاہوں کی حفاظت کرنا۔ نگاہوں کو نیچا رکھنا، ان کی حفاظت کرنا، اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ دل میں تمام قسم کے خیالات و تصورات اور اچھے برے جذبات کا برا نگیختہ و محرک ہونا اسی کے تابع ہے۔اسلام بے حیائی وبے پردگی کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے ۔ ان فکر انگیز کلمات کا اظہار داعی کبیر حضرت علامہ محمد شاکر نوری صاحب (امیر سنّی دعوت اسلامی)نے یکم مارچ بروز جمعرات 2018ءکو بعد نماز مغرب سواد اعظم اہلسنّت وجماعت کی عالمگیر تحریک سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام مالیگاﺅں میں منعقدہ دو روزہ اجتماع میں کیا۔
مولاناموصوف نے کہاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ پاک نے چند خوش نصیبوں کی مدد کاذمہ لیا ہے ،ان میں سے ایک وہ شخص بھی ہے جو اس نیت سے نکاح کرے کہ وہ اپنے آپ کو پاک دامن رکھے گا ۔بخاری شریف میں ہے کہ کوئی خوف الٰہی کے سبب برائی وگناہ سے بچ جائے تو اللہ پاک اس کے مصائب وآلام کا خاتمہ فرمادیتا ہے ۔حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا موصوف نے فرمایا کہ آج کروڑوں روپے خرچ کر کے آوارگی،بد چلنی اوربے حیائی کوفروغ دیا جا رہا ہے،مغربی دنیا عورتوں کو پاکدامنی سے دور کرنا چاہتی ہے ،آزادی کے نام پر عورت کو برہنہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا چکاہے ۔انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور فلموں کے ذریعے عورت کو بے راہ روی پر ڈالاجا رہا ہے، برائیوں کو پھیلایا جارہا ہے،لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کی دوستی کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ سوچ وخیال آزاد ہو جائے اور برائی کو گناہ ہی تصور نہ کیا جائے ۔مسلم عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عفیفہ اور پاک دامن بنی رہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں بہترین عورت وہ ہے جو پاک دامن ہے۔مزید فرمایا:جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذمہ لے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاک دامن خواتین کے بطن سے اسلام کے بدر جلیل علما،صلحا اور مشائخ پیدا ہوئے ہیںاور انہوں نے اسلامی پرچم کو اکناف عالم میں عام کیا۔مولانا موصوف نے تاریخی قرائن کے حوالے سے فرمایا کہ جب حضرت مریم پر تہمت لگائی گئی تو قرآن مقدس نے ان کی پاکدامنی کی گواہی دی ۔غیر اسلامی معاشرے نے ہی عورتوں کو مناسب مقام نہ دے کر انھیں احساسِ کم تری میں مبتلا کردیا ہے اور دوسری طرف مساواتِ مرد و زن کا شوشہ چھوڑ کر ”آزادیِ نسواں“ کا فتنہ جگا دیا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر پیغام دیتے ہوئے امیر سنّی دعوت اسلامی نے فرمایا کہ مسلم خواتین اہلِ مغرب کی فتنہ گری کے فریب سے نکل آئیں ،اسلام نے عورت کو عفت ، عزت اور عظمت کے حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت کو چاہیے کہ اپنے آپ کو مشرقی خاتون بنا کر خاندان کے جس رتبے پر ہو اپنے باپ ، بھائی، خاوند یا بیٹے، بیٹیاں وغیرہ اگر غلط راہ پر چل رہے ہوں انھیں راہِ راست پر لاکر ایک انقلاب لائیں۔خود بھی اپنی عزت کی حفاظت کریں اور بچیوں کو بھی اس کی تعلیم دیں۔
صبح دس بجے دعا اورتلاوت قرآن مجید سے اجتماع کا آغاز ہوا۔حمد ونعت کے بعدعالمات و مبلغات کے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا۔عالمہ پروین صاحبہ نے قیامت کی نشانیاں،عالمہ شکیلہ صاحبہ نے میت کے مسائل ،عالمہ بشریٰ صاحبہ نے کلمہ طیبہ اور درود شریف کے فضائل اورعالمہ شبانہ صاحبہ نے روزمرہ کی سنتیںبیان کیں۔نماز ظہر کی ادائیگی بعد مولانا امتیاز رضوی (بھیونڈی)نے اصلاح معاشرہ پر خطاب کیا۔آپ کے بعد مالیگاﺅں کے نگراں مولانا سیدمحمد امین القادری صاحب نے ”اسلامی بیٹیوں کی داستان زہد وقناعت“پر خطاب کیا۔مولانا موصوف نے کہاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی خاتون کو اللہ پاک میرا پڑوس عطا فرمائے گاجو غریبی کے باوجود شرم وحیا کی پابندی کے ساتھ شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری کرے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ ہمارے گھر تین تین مہینے چولہا نہیں جلتااورہم دو کالی چیزو ں پر اکتفا کرتے تھے۔اس حدیث کے پس منظر میں مولاناسید محمد امین القادری صاحب نے فرمایاکہ آج معمولی معمولی باتوں پر پنچائیت بٹھا دی جاتی ہے ،سیرت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے درس حاصل کریںاور والدین سے شوہر کی شکایتیں کرنے کی بجائے صبر وتحمل سے کام لیں اور شوہر کی اطاعت کریں۔آج کی عورتیں تین مرتبہ پیٹ بھر کھانا کھا کر بھی حکم الٰہی وحکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا نہیں جب کہ ماضی کی عورتیں کئی کئی دن بھوکے پیاسے رہ کر پوری پوری رات سجدوں میں گذار دیتی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قناعت کی تعلیم دی ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دختر ناز حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن دیکھے تو ناراضگی کا اظہار کیا تو آپ نے وہ کنگن صدقہ کر دیے۔ا س پر مولانا موصوف نے فرمایاکہ عورتوں کا زیورات پہننا شرعا جائز ہے مگر انہی میں منہمک ہوجانا،فیشن ایبل کلچر کا حصہ بن کر فرامین خدا و رسول سے روگردانی اختیارکرنا درست نہیں ہے ۔حضرت بابا فریدالدین گنج شکر علیہ الرحمہ نے اپنی والدہ سے فرمایاکہ ماں میری آج تک تہجد فوت نہیں ہوئی،والدہ نے کہا کہ بیٹا میں نے تمہیں کبھی بغیر وضو کے دودھ نہیں پلایا،یہ اسی کی تاثیر ہے ۔
نماز عصر سے قبل محفل ختم بخاری شریف کا انعقاد ہوا، آخری حدیث کادرس سراج الفقہاحضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی (صدر مفتی مبارک پور اشرفیہ) نے دیا۔ سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام مالیگاﺅں میں تین دارالعلوم جاری ہیں،ان سے علما،حفاظ ،عالمات اور مبلغات کثیر تعداد میں فارغ ہو رہے ہیں،امسال کے فارغین کو اجتماع میں علماو مشائخ کے ہاتھوں جبہ ودستار،ردائے فراغت اور سند فضیلت سے نوازا گیا
اور الجامعة القادریہ نجم العلوم کے فارغین کے ذریعے ترتیب دی گئی کتاب ”فضائل اصحاب حبیب الباری“کا اجراءعمل میں آیا۔
بعد نماز عصر سوال وجواب کا کھلا سیشن ہوا جس میں حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی نے شریعت کی روشنی میں سوالات کے جوابات ارشاد فرمائیں۔ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایاکہ حمل ایک دن کا ہو یا ایک ماہ کا اسے ضائع کرناحرام وگناہ ہے ۔چند صورتوں میں شریعت نے اس کی اجازت عطا فرمائی ہے جیسے عورت بہت زیادہ کمزور یاشدید بیمار ہو وغیرہ۔دوسرے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اگر شوہر لاپتہ ہے تو عورت قاضی شریعت کے یہاں درخواست دے،قاضی حقیقت حا ل کا جائزہ لے کر چار سال بعد نکاح فسق کرے گا ، اس طرح وہ خاتون دوسرا نکاح کر سکتی ہے ۔زکوٰة کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مفتی صاحب نے کہا کہ نصاب پورا ہونے کے بعد جو رقم دوسروں کو بطور قرض دی گئی ہے اس پر بھی زکوٰة فرض ہے ۔اگر بھائی یا بہن مسکین ہو یا مالک نصاب نہ ہو تو اسے زکوٰة دی جا سکتی ہے،اس طرح دوہرا ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اجتماع میں عورتوں کا جم غفیر تھا ،اجتماع گاہ ہی میں انہوں نے نمازیں ادا کیں،اس پس منظر میں آئے ایک سوال کے جواب میں فرمایاکہ ہر اگلی عورت پیچھے والی عورت کے لیے سترہ ہے۔صلوٰة وسلام اور رقت انگیز دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا۔






No comments:
Post a Comment