کیا خواتین میں تبلیغ کی ضرورت ہے؟
ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی صاحب نے 2007ءمیں امیر سنّی دعوت اسلامی کے ذریعے شعبہ خواتین کو مضبوط کرنے پرہر سنّی کو تعاون کرنے کی اپیل کی تھی
1اور 2مارچ 2018ءکو مالیگاﺅں میں سنّی دعوت اسلامی کے دو روزہ اجتماع کے پیش نظر
معلم کائنات ،پیغمبر اسلام سیدنا محمد رسول اللہا نے ”طلب العلم فریضة علی کل مسلم ومسلمة“ فرماکر طلب علم کو ہر مسلمان مرداورمسلمان عورت پر فرض قرار دیا ہے یعنی عقائد ضروریہ دینیہ کا علم ہر مسلمان مرد عورت کے لئے واجب ولازم ہے۔یعنی کہ علوم کا سیکھنا عورتوں کے لیے بھی ضروری ہے ، علاوہ اس کے، لڑکیوں کے والدین اور سرپرستوں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ انہیں کھانا پکانا ، سلائی، بنائی، کتائی نیز دیگر گھریلو کام کاج ، شوہر کی اطاعت ،پردہ اور شرم وحیا وغیرہ کی بھی تعلیم دیں۔واضح ہے کہ عقائد ضروریہ دینیہ کا علم مسلمان عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے ۔جہاں تک تعلق ہے لڑکیوں کے گھریلو کام کاج سیکھنے کا تو یہ انہیں گھر ہی کے اندر ان کی مائیں یا دوسری خواتین سکھا سکتی ہیں نیز قرآن کریم ناظرہ اور کلمہ وغیرہ بھی سکھا سکتی ہیں مگر عورتوں کو صحیح معنی میں مومنہ بناکر اسلامی معاشرہ کی صالحیت میں مدد دینا اور اپنا کردار ادا کرنا تو اس کے لئے کیا ہونا چاہئے ؟ کونسا طریقہ ¿ کار اختیار کرنا چاہئے؟ کیا ان تمام امور کے لئے خواتین میں تبلیغ کی ضرورت نہیں؟
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ماضی میں خواتین میں تبلیغ کی مثال نظر آتی ہے اور خواتین مبلغات کی کوئی تاریخ ملتی ہے؟تو اولا تو حضورا کی حیات ظاہری سے لے کر خلفائے راشدین نیز تبع تابعین کے عہد انحطاط کے باوجود خواتین بھی دین سے کما حقہ و اقفیت رکھتی تھیںاور صدر اول میں تو ہر گھر بذات خود ایک مدرسہ کی حیثیت رکھتا تھا لہٰذا اس طرح کی تبلیغ کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی گئی ۔البتہ جب سے اہل مغرب دنیا کے نقشے پر ابھر کر آئے ہیں اوران کے رنگ ڈھنگ ،تہذیب وثقافت علوم وفنون نے گھر گھر میں اپنے گھر کرنے شروع کئے مسلمان اپنے دین ، دینی علوم اور اسلامی طور وطریق سے دور ہوتے چلے گئے اور جب مرد ہی بے راہ روی اور بے عملی میں مبتلا ہیں تو بھلا عورتوں کا کیا عالم ہوگا؟
عصر موجود میں عورتوں کی بے پردگی ، بے حیائی، ڈھیٹ پن بھانت بھانت کے خرافات و خرابات میں مبتلا ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟مرد ہی تو ہیں، مردوں کی عقل پر اگر تالا نہیں پڑا ہوتا تو عورتیں بے پردہ کیوں دندناتی پھرتیں؟آج مسلمان مرد مختلف طبقوں اور گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں ، مارڈن مسلمان ،سیاسی مسلمان ، ڈھونگی مسلمان وغیرہ وغیرہ تہذیب جدید کے رسیاہیں لہٰذا گھر کی عورتوں کو بھی انہوں نے اپنے ہی رنگ میں رنگ لیا ہے۔ مذہب کا ڈھونگ رچانے میں اپنے مردوں سے وہ بھی پیچھے نہیں ، برقع تو اوڑھےں گی مگر چہرہ کھلا رہے گا ، اب برقع کیا ہوگئے،، نمائش اور فیشن کے ڈریس بن گئے ہیں۔جن گھروں میں کچھ دیندار ی ہے اور عورتیں بھی دیندار بننا چاہتی ہیں وہاں نام نہاد صوفیوں اور پیروں ، تعویذی ملاﺅں اور ڈھونگی باباﺅں کا عمل دخل ہے۔ عجیب عالم ہے عورتوں نے خود اپنی علیحدہ شریعت گڑھ لی ہے اورہر غیر اسلامی طریق کے ساتھ ساتھ تمام تر بدعات و منکرات کو رواج دے رکھا ہے۔
لڑکوں کے لئے دینی مدارس ہیں، جلسہ و کانفرنس بھی منعقد ہوتے ہیں، وعظ و تبلیغ اور بیعت و ارشاد کا سلسلہ بھی جاری ہے، لٹریچرس بھی چھپ رہے ہیں، لیکن لڑکیوں کے کتنے مدارس ہیں؟ ان کو سمجھانے، دین سکھانے کے لئے کون کون سے جلسے منعقد ہوتے ہیں؟رہی بات لٹریچرس کی تو اب ہر علاقہ کے لوگ اپنی اپنی علاقائی زبان میں اور خاص طور سے ہندی میں دینی لٹریچرس پڑھنا چاہتے ہیں۔ زبان ہندی ہو یا انگریزی ان کے جاننے، سیکھنے میں حرج نہیں لیکن ملک ہندوستان میں اردو جانے بغیر دینی کتب و رسائل اور لٹریچرس سے کما حقہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اردو سیکھنا یا سکھانا بہت مشکل نہیں ہے اگر ہر گھر کے افراد قرآن مجید ناظرہ پڑھنا جانتے ہیں تو ان کے لئے اردو پڑھ جانا بہت آسان ہے۔
یہ ہے ہمارے مسلم معاشرہ یا دنیائے سنیت کے منظر نامہ کی ایک دھندلی سی شکل اور اگر پورا منظر نامہ پیش کر دیا جائے تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ بہر کیف ان سب حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مردوں میں بھی صحت مند طریقے کی تبلیغ کی ضرورت ہے اور خواتین میں بدرجہ ¿ اتم اس کی ضرورت ہے۔مختصر یہ کہ عورتوں میں تبلیغ بہت ضروری ہے۔ ہمارے علما و مشائخ، دانش وران ملت اور ذمہ داران اہل سنت کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہئے اور کوئی لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔اس طرح کے تبلیغی مشن کو چلانے میں کوئی بھی جماعت، کوئی بھی ادارہ پہل کر سکتا ہے اور کرنا چاہئے۔ جب اندھیرا پھیلا ہوتا ہے تو اندھیرے کو کوسا نہیں جاتا اور نہ ہی پاور ہاﺅس سے بجلی آنے کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا جاتا ہے بلکہ اس وقت شمع، چراغ، لالٹین جو بھی دستیاب ہوتا ہے اسے جلا کر گھر میں روشنی کر لی جاتی ہے۔ اگر امیر سُنی دعوتِ اسلامی اس طرح کا کوئی پروگرام شروع کرتے ہیں فبہا، اس میں ہر سُنی کو تعاون کرنا چاہئے۔(ماخوذ:سہ ماہی سنّی دعوت اسلامی ممبئی،2007ء)
٭٭٭

No comments:
Post a Comment