اس وقت منشیات پوری دنیا کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔(مولاناسیدمحمد امین القادری )
ائمہ ،علما اور داعیان دین کی خدمات کا اعتراف ضروری ۔(مولاناسیدمحمد امین القادری )
1اور 2مارچ 2018ءکو مالیگاﺅں میں ہونے والے اجتماع کی تیاری کے لیے روڈ اجتماع کا سلسلہ دراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
16فروری بروز جمعہ 2018ء(عطاءالرحمن نوری،مالیگاﺅں):زندگی اللہ تعالی کی ایک عظیم
نعمت ہے اس کی قدر ہر ایک پر فرض ہے۔انسانی زندگی اور صحت عامہ کے حوالے سے
آج پوری دنیاکو جن بڑے خطرات اور چیلنجوں کا سامناہے اس میں منشیات
سرفہرست ہے۔منشیات تیزی سے ہزاروں انسانوں کو اپنی عادت کا غلام بناتی
جارہی ہے ،اس عادت کا شکار ہوکر خواتین ،نوجوان اور بچے اپنی زندگی کو اپنے
ہی ہاتھوں سے تباہ و برباد کررہے ہیں ۔منشیات کے استعمال کی وجہ سے سالانہ
لاکھوں افرادداعی اجل کولبیک کہہ رہے ہیں۔ اس وقت منشیات پوری دنیا کا ایک
سنگین مسئلہ ہے۔ ان فکری کلمات کا اظہار آل رسول حضرت مولانا سید محمد
امین القادری صاحب (نگراں سنّی دعوت اسلامی)نے 16فروری بروز جمعہ 2018ءکو
بعد نماز عشاءمالیگاﺅں کیمپ کے اجتماع میں جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے
کیا۔مولانا موصوف نے نشے کی وعیدوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے
چہرے خنزیر اور بندر کی طرح کر دیئے جائیں گے ،ان کے گناہ یہ ہوں گے کہ وہ
نام بدل بدل کر شراب پیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو
تمام برائیوں اور خرابیوں کی کنجی اور جڑ قرار دیا ہے، اس کے استعمال کرنے
کی وجہ سے وہ برائیوں کے دروازوں کو کھول بیٹھتا ہے اور گناہوں ونافرمانیوں
میں مبتلا ہوجاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو ”ام الفواحش“ یعنی
برائیوں اور بے حیائیوں کی ماں قراردیا ہے۔مزید ارشاد فرمایا: شراب فواحش
کی ماں ہے اور اکبر الکبائرہے، جو اس کو پیتا ہے وہ اپنی ماں اور پھوپھی
اورخالہ کے ساتھ بھی بدکاری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
مولانا موصوف نے صالح دوستوں کے حوالے سے فرمایا کہ انسانی زندگی پر دوست کے اچھے یا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔جہاں صالح دوست کی بناءپر زندگی اسلامی سانچے میں ڈھلتی ہے وہیں برے دوستی کی وجہ سے انسان اسلامی تعلیمات سے روگردانی اختےا رکرتا ہے ۔حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص بہترین دوست ہے کہ اگر تو نیک کا م سے غفلت کرے تو وہ تجھے تنبیہ کرے اور تیرے نیک کا موں میں تیری اعانت کر ے اور بُرادوست وہ ہے کہ اگر تو نیک کا موں سے غفلت کرے تو وہ تجھے متنبہ نہ کرے اور نیک کاموں میں تیری مدد نہ کرے ۔حدیث مبارکہ میں اچھے دوست کی علا متیں بھی بتا دی گئیںہیں،حدیث پاک کا مفہوم ہے : اچھا ہم نشیں وہ ہے جسے دیکھنے سے خدا یا د آئے اور اس کی گفتگو سے عمل میں زیا دتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے ۔فرمان رسول اکرم ﷺہے کہ ”برے ہم نشین کے مقابلے میں تنہا ئی بہتر ہے اور اچھے آدمیوں کی ہم نشینی تنہا ئی سے بہتر ہے ۔“ (بیہقی شریف )بروں کی صحبت سے بچو،اچھوں کی صحبت اختیار کرو، اچھوں کی صحبت میں رہ کر اصحاب کہف کا کتا جنتی بن گیا اور بروں کی سنگت سے حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا راہ راست سے پھر گیا۔
اس اجتماع میں قاری محمد یوسف چشتی کی پچیس سالہ خدمات کا اعتراف کیا گیا اور مولانا کی خدمت میں ایوارڈ پیش کیا گیا ۔اس پس منظر میں مولانا سید محمد امین القادری صاحب نے کہا کہ ہماری سوسائٹی کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ڈاکٹر ،پروفیسراور زیادہ اُجرت لینے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے ریٹائرمنٹ پر ان کا استقبال کیا جاتا ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے مگر افسوس! ائمہ کرام ،علمائے کرام اور مفتیان عظام کی خدمات کو فراموش کر دیاجاتا ہے ۔جب کہ یہ دین کے ایسے مجاہدین ہیں جو کم سے کم اجرت میں رات ودن تگ ودَو کرتے ہیں ۔خطاب کے آخر میں مولانا موصوف نے
1⃣ اور
2⃣
مارچ 2018ءکو مالیگاﺅں میں ہونے والے اجتماع کی دعوت دی اور لوگوں سے اپیل
کی کہ دوست واحبا ب کے ساتھ کثیر تعداد میں شرکت کریں، کام میں ہاتھ
بٹائیں اور گھر گھر اجتماع کی دعوت پہنچائیں۔اجتماع میں صوفی غلام رسول
قادری صاحب نے اجتماع کے اغراض ومقاصد اور قاری یوسف چشتی کی خدمات کو بیان
کیا۔صلوٰة وسلام ودعاپر اجتماع کا اختتام ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا موصوف نے صالح دوستوں کے حوالے سے فرمایا کہ انسانی زندگی پر دوست کے اچھے یا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔جہاں صالح دوست کی بناءپر زندگی اسلامی سانچے میں ڈھلتی ہے وہیں برے دوستی کی وجہ سے انسان اسلامی تعلیمات سے روگردانی اختےا رکرتا ہے ۔حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص بہترین دوست ہے کہ اگر تو نیک کا م سے غفلت کرے تو وہ تجھے تنبیہ کرے اور تیرے نیک کا موں میں تیری اعانت کر ے اور بُرادوست وہ ہے کہ اگر تو نیک کا موں سے غفلت کرے تو وہ تجھے متنبہ نہ کرے اور نیک کاموں میں تیری مدد نہ کرے ۔حدیث مبارکہ میں اچھے دوست کی علا متیں بھی بتا دی گئیںہیں،حدیث پاک کا مفہوم ہے : اچھا ہم نشیں وہ ہے جسے دیکھنے سے خدا یا د آئے اور اس کی گفتگو سے عمل میں زیا دتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے ۔فرمان رسول اکرم ﷺہے کہ ”برے ہم نشین کے مقابلے میں تنہا ئی بہتر ہے اور اچھے آدمیوں کی ہم نشینی تنہا ئی سے بہتر ہے ۔“ (بیہقی شریف )بروں کی صحبت سے بچو،اچھوں کی صحبت اختیار کرو، اچھوں کی صحبت میں رہ کر اصحاب کہف کا کتا جنتی بن گیا اور بروں کی سنگت سے حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا راہ راست سے پھر گیا۔
اس اجتماع میں قاری محمد یوسف چشتی کی پچیس سالہ خدمات کا اعتراف کیا گیا اور مولانا کی خدمت میں ایوارڈ پیش کیا گیا ۔اس پس منظر میں مولانا سید محمد امین القادری صاحب نے کہا کہ ہماری سوسائٹی کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ڈاکٹر ،پروفیسراور زیادہ اُجرت لینے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے ریٹائرمنٹ پر ان کا استقبال کیا جاتا ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے مگر افسوس! ائمہ کرام ،علمائے کرام اور مفتیان عظام کی خدمات کو فراموش کر دیاجاتا ہے ۔جب کہ یہ دین کے ایسے مجاہدین ہیں جو کم سے کم اجرت میں رات ودن تگ ودَو کرتے ہیں ۔خطاب کے آخر میں مولانا موصوف نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


No comments:
Post a Comment